قارئین کرام
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
فروری کا شمارہ حاضر ہے۔
اترپردیش آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ مسلمانوں کی آبادی بھی یہاں سب سے زیادہ ہے۔ مسلمانوں کی دینی، علمی، تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیاں بھی سب سے زیادہ یہیں پر ہوتی ہیں۔ عصری علوم کی سب سے بڑی درس گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی اسی صوبے میں موجود ہے۔ ملک کے سب سے ممتاز دینی مدارس (دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم، سہارن پور، ندوۃ العلماء لکھنؤ، جامعہ سلفیہ بنارس، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، مدرستہ الاصلاح، سرائے میر اور جامعہ الفلاح، بلریا گنج، اعظم گڑھ) بھی یہیں موجود ہیں۔ مسلمانوں کے تمام مسالک، مکاتب فکر اور دینی و ملی جماعتوں کا بھی یہ مرکز ہے۔ آزادی کی لڑائی میں سب سے زیادہ حصہ لینے اور قربانیاں پیش کرنے کا اعزاز بھی اسی صوبہ کو حاصل ہے۔ ان سب خوبیوں اور اعزازات کے باوجود اس وقت سب سے زیادہ ستم ظریفی اور مسائل کا شکار بھی اسی صوبہ کے مسلمان ہورہے ہیں۔ ان کے حقوق پامال ہورہے ہیں، ان کی آزادیاں سلب ہورہی ہیں، ان کی مساجد پر آئے دن حملے ہورہے ہیں، ان کے مدارس غیر قانونی طریقوں سے بند کئے جارہے ہیں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ کو عملا یرغمال بنالیا گیا ہے۔ ان کی آبادیوں کو جگہ جگہ بلڈوز کیا جارہا ہے۔ شر پسند عناصر کی زہریلی اور نفرتی تقاریر کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ لنچنگ کے واقعات میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ گھر میں نماز پڑھنا بھی اب جرم قرار دیا جارہا ہے۔اس بار کی سرورق کی کہانی ” اترپردیش میں قانون کی حکمرانی یا جنگل راج؟” میں سینئر صحافی عبدالباری مسعود ان تمام امور کا تجزیہ کیا ہے۔
مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات قریب ہیں لیکن ریاست میں ایس آئی آر کے نام پر آتنک مچا ہوا ہے اور شہریوں کے لئے اپنی شناخت ثابت کرنا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، ایسے میں انتخابات کے محور سے ترقیاتی ایجنڈا پس پشت جا پڑا ہے، ان سب امور پر سیر حاصل بحث کی ہے صحافی نوراللہ جاوید اپنے مضمون” بنگال کی سیاست۔ ایس آئی آر اور شناخت کا خوف”میں۔
نفرتی سیاست میں اس وقت سرفہرست اترا کھنڈ ہے۔ جہان ایک طرف نفرتی اور زہریلی تقاریر کا بازار گرم ہے وہیں دوسری طرف حکومتی سطح سے مسلمانوں کے خلاف مسلسل اقدامات ہورہے ہیں۔ پہلے یونیفارم سول کوڈ نافذ کیا گیا، اب مسلمانوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ یو سی سی قانون کے تحت اپنی شادیان رجسٹرڈ کروائیں۔ مسلمانوں کی کئی بستیان بلڈوزر کی زد میں آچکی ہیں وہیں پر جگہ جگہ حملے ان پر بھی ہورہے ہیں۔ دھانی حکومت نے ایک قانون لا کر نہ صرف مدرسہ بورڈ کو ختم کیا بلکہ نئے اقلیتی قانون کے ذریعہ انُ کے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم پر تیشہ چلایا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کی ایک ٹیم نے ریاست کا دورہ کیا اور ایک مشاہداتی رپورٹ ریلیز کی۔ ادارہ کی جانب سے اس رپورٹ پر مبنی ایک خصوصی مضمون ملاحظہ فرمائیں” اتراکھنڈ۔ تشدد کی سیاست اور ریاستی ادارے”۔
ان کے علاوہ کئی اہم موضات پر متعدد خصوصی مضامین آپ کے ذوق مطالعہ کو تسکین پہنچائیں گے۔
جہان مسلم کے تحت نامور صحافی سید خالد حسین نے “بنگلہ دیش کے عام انتخابات”، افتخار گیلانی نے “ایران میں عوامی احتجاج اور امریکہ و اسرائیل کا گھنانا کردار”اور ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی نے “ٹرمپ کا امن بورڈ۔ ایک استعماری ایجنڈا” پر بصیرت افروز معلومات فراہم کی ہیں۔
رمضان المبارک کا موسم بہار ہم پر سایہ فگن ہے۔ مسعود محبوب خان ہمیں بتارہے ہیں کہ کیسے اس موسم بہار سے خوب خوب استفادہ کریں اپنے مضمون ” رمضان رسم سے روح تک”میں۔
آپ کے تاثرات اور مشوروں کا انتظار رہے گا۔
والسلام
ناشر


