دارالحکومت دہلی کے قلعہِ معلی (لال قلعہ) کے قریب میٹرو اسٹیشن کے باب اول پر 10 نومبر کی شام کو ہونے والا ـ’کار دھماکہ‘ اب بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے جس میں 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ کیوں کہ وہاں کھڑی سی این جی (گیس سلنڈر پھٹنے سے) کاریں بھی زد میں آئیں جس نے دھماکے کو خوفناک بنا دیا۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب کہ بہار میں رائے دہی کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے میں محض 12 گھنٹے باقی تھے۔ دہلی پولیس نے ابتدائی طور پر کہا کہ یہ ایک ’’اتفاقی دھماکہ‘‘ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس واقعے کی آڑ میں حسب سابق کی طرح بالا دست طبقات کے زیر کنٹرول، ہندوتو نواز میڈیا نے چشم زدن میں (ذرائع (Sources) کے حوالے سے) ایک پورے مذہبی فرقہ کو نشانہ بنانے کا نفرت انگیز اور جھوٹ پر مبنی سلسلہ شروع کر دیا۔ جب کہ حکومت کی طرف سے اس پر اس وقت تک کسی قسم کا ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
بہرحال، پورے 48 گھنٹے بعد کابینہ کی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا مگر اس میں صرف ایک معمولی نوعیت کی قرارداد منظور کی گئی جس میں اس واقعہ کو ’دہشت گردانہ‘ کارروائی قرار دیا گیا۔ ماضی کے برعکس نہ اس قرارداد میں کسی تنظیم کا نام لیا گیا اور نہ ہی کسی ملک پر الزام عائد کیا گیا۔ یہ رویہ اس جارحانہ ردِعمل سے بالکل مختلف تھا جس کی دھمکی وزیرِاعظم نریندر مودی نے 12 مئی کو ’آپریشن سندور‘ روکنے کے فوراً بعد دی تھی کہ “اب اگر کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو فوراً جوابی کارروائی کی جائے گی۔ ’آپریشن سندور‘ ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اس میں توقف کیا گیا ہے۔ انڈیا کسی قسم کی جوہری دھمکی برداشت نہیں کرے گا۔ ایسے تمام دہشت گرد ٹھکانوں پر فیصلہ کن حملے کرے گا جو جوہری بلیک میلنگ کی آڑ میں پروان چڑھ رہے ہیں… نیز دہشت گردی کو سرپرستی دینے والی حکومت اور دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ اگر انڈیا پر کوئی دہشت گردانہ حملہ ہو گا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا”۔ لیکن اب کی مرتبہ کا بیانیہ ایسے تیز و تند فقروں سے خالی تھا۔
اس پر فقرہ کستے ہوئے اپوزیشن کانگریس نے وزیر اعظم نریند مودی کو یہ یاد دلایا کہ آپ نے کہا تھا کہ ہر دہشت گردانہ حملہ ’’جنگی کارروائی‘‘ تصور کیا جائے گا۔ اور کیا یہی ’’نیا معمول‘‘ اس واقعے پر بھی لاگو ہو گا؟
حکومت کی خاموشی اور درباری میڈیا:
ادھر حکومت کی خاموشی نے درباری میڈیا کو اپنی پرانی روش ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ کئی معروف ٹی وی چینلوں اور اخبارات نے غیر مصدقہ خبروں کا بازار گرم کر دیا جس کا مقصد سب جانتے ہیں کہ حکمران جماعت کے ایجنڈے کو تقویت فراہم کرنا۔ یہ میڈیا اپنے منفی پروپیگنڈا میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ اس نے بلا ثبوت اس دھماکے میں ’ترک‘ زاویہ تلاش کرنا شروع کر دیا۔ اس پر انقرہ نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا اور اسے ’’ایک بدنیتی پر مبنی جھوٹی مہم‘‘ قرار دیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔
پے درپے گرفتاریاں:
ملک بھر میں اچانک ہونے والی گرفتاریاں— کیا یہ پہلے سے لکھی ہوئی اسکرپٹ ہے؟ حالانکہ دھماکے کی وجہ پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ دھماکے میں کس قسم کا بارودی مادہ استعمال ہوا ہے؟ کیا اس کا تعلق جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے شبہ میں گرفتاریوں کا جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے ہے؟ روز نامہ ٹریبیون کے مطابق دھماکے کے جائے وقوع پر نہ کوئی گڑھا، نہ بم کے ذرات اور نہ ہی آر ڈی ایکس کے سراغ ملے ہیں۔ اس واقعے سے پہلے پولیس نے 2,900 کلو گرام بارودی مواد ضبط کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں یہ مواد ایک مقام سے دوسرے مقام پر کیسے منتقل ہوا؟ کیا اس میں کوئی غیبی ہاتھ تھا؟ انٹیلی جنس کی ناکامی پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا ہے۔ بہر حال کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے یہ سوال اٹھایا کہ ’’سنگین انٹیلی جنس ناکامیوں‘‘ کے باوجود اتنی بڑی مقدار میں بارودی مواد دارالحکومت سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے (فریدآباد) تک کیسے پہنچ گیا؟ کھیڑا نے سوال کیا کہ بار بار ہونے والی ’’انٹیلی جنس ناکامیوں‘‘ کے باوجود کیا وزیر داخلہ امیت شاہ کو اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے؟ انہوں نے یاد دلایا کہ 26/11 ممبئی حملوں کے دوران اس وقت کے وزیر داخلہ نے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ کانگریس رہنما نے حکومت پر تنقید کی کہ اسے لال قلعہ دھماکے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دینے میں تقریباً 48 گھنٹے لگ گئے۔ انہوں نے کہا، ’’تین دن تک کنفیوژن اور قیاس آرائیاں چلتی رہیں جب کہ سرکاری تصدیق میں تاخیر کی گئی۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آخر اس حملے کو دہشت گردی قرار دینے میں اتنی دیر کیوں کر ہوئی — اور دارالحکومت کے قلب میں حفاظتی اقدامات ایک بار پھر کیوں کر ناکام ہوئے؟‘‘
وہائٹ کالر ٹرزم:
جموں و کشمیر کی پولیس نے، جو اب وفاقی حکومت کے ماتحت ہے، ڈاکٹر، عدیل احمد راتھر اور مزمل احمد گنائی کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق مبینہ طور پر اس دہشت گردوں کے اس گروہ سے بتایا گیا ہے۔ نئی اصطلاح “white collar terror ecosystem” پولیس کی طرف سے ایجاد کی گئی ہے۔ لیکن پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کس نوع کا ‘academic networks’ ہے اور وہ کیا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر عمر نبی کو خودکش بمبار بتایا جا رہا ہے لیکن ابھی تک ڈی این اے سے نعش اسی کی تھی، تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ کشمیر میں عمر نبی کے علاوہ دیگر 2 ڈاکٹروں کے مکانات پر بغیر کسی عدالتی چارہ جوئی کے بلڈوزر چلا دیا گیا۔
اسی دوران ایک ویڈیو منظرِ عام پر آیا ہے جس میں ڈاکٹر محمد عمر نبی ’’شہادت کی کارروائیوں‘‘ کے بارے میں گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ویڈیو، جو کہ مبینہ طور پر اس کے کسی پھینکے گئے فون سے برآمد ہوا ہے، بظاہر ایک ’’ٹوٹا پھوٹا‘‘ بیان ہے — بے ربط، ادھورا اور بے ترتیب — جس میں عمر خودکش حملوں کے ’’غلط سمجھے جانے والے‘‘ تصور کو نئے سرے سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم، یہ ویڈیو تفتیش کاروں کے لیے کچھ مواد فراہم کرتا ہے جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک ’’اتفاقی دھماکہ‘‘ تھا۔
علاوہ ازیں الفلاح یونیورسٹی کے خلاف ایک محاذ کھول دیا گیا اور اس کے بانی چیئرمین جواد صدیقی کے اندور میں واقع آبائی مکان کو بلڈوز کیا جانا تھا مگر عدالت نے اس پر اسٹے لگا دیا۔ انہیں منی لانڈرنگ کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح ملک بھر میں محض شبہ کی بنیاد پر اچانک گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پہلے دہلی سے خبر آئی کہ ایک نوجوان کو “مشکوک سرگرمیوں” کے الزام میں اٹھایا گیا ہے۔ پھر لکھنؤ سے اطلاع ملی کہ ایک مدرس کے بیٹے کو پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اگلے چند گھنٹوں میں آسام کے دھوبری سے 2 افراد، گولپارا سے ایک ریٹائرڈ اسکول پرنسپل، سلچر سے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو اٹھا لیا گیا۔ ایک دن کے اندر اندر 10 سے زیادہ مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان گرفتاریوں میں نہ کوئی مشترک عنصر تھا، نہ پس منظر، نہ ایک جیسی سرگرمیاں، نہ کوئی سفر کا ریکارڈ، نہ کال ڈیٹا، نہ کوئی ثبوت۔ محض شبہ جو گرفتاریوں کے جواز کے لیے کافی ٹھہرا۔ کیوں کہ ان کا تعلق ایک مخصوص فرقہ سے ہے۔
اس درمیان جموں و کشمیر پولیس نے جس مبینہ ’دہشت گرد ماڈیول‘ کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، اس میں آٹھویں گرفتاری 40 سالہ ڈاکٹر شاہین سعید کی ہوئی ہے۔ شاہین سعید کا تعلق کانپور شہر سے ہے۔ وہ ’الفلاح یونیورسٹی‘ میں ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان کی کار سے ایک رائفل برآمد کی ہے، کہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی گاڑی بارودی مواد کی ترسیل کے لیے استعمال کی جا رہی ہے اور یہ کہ وہ وادیِ کشمیر کے باہر اس مبینہ گروہ کا ایک ’بیس‘ قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھیں۔
گرفتاریوں کی رفتار اتنی تیز تھی کہ کئی وکیل حیران رہ گئے۔ ایک سینئر قانونی ماہر نے کہا کہ ’اتنی جلدی کوئی انویسٹی گیشن مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ گرفتاریوں کی رفتار نہیں، ایک پلان کا شیڈول لگ رہا تھا۔‘ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان سب پر “ممکنہ روابط” کا شک تھا۔ لیکن ’روابط‘ کی یہ دوڑ اس وقت مزید مشکوک ہو گئی جب کہ ایک عجیب تفصیل سامنے آئی۔ ہر گرفتار شخص کی تصویر میڈیا پر اسی دن چلی۔ فوٹو کے ساتھ اس کا شناختی کارڈ۔ نام، پتہ، تصویر، اور مذہبی شناخت سب کچھ ایک ہی بار میں۔ نوجوان طالب علم، مدرس، ریٹائرڈ پرنسپل سب کے شناختی کارڈ فوراً میڈیا کو فراہم کر دیے گئے۔ صحافیوں نے فوراً سوال اٹھایا کہ ’کیا سب لوگ دھماکے کے دن اپنا شناختی کارڈ جیب میں لیے گھوم رہے تھے؟‘
ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے بتایا کہ ’زیادہ تر لوگ روزمرہ میں آدھار کارڈ یا پورا بٹوہ نہیں رکھتے۔ خاص طور پر اسکول کے اساتذہ یا بزرگ لوگ۔ اتنی یکسانیت… بہت عجیب ہے‘۔ انسانی حقوق کے ایک کارکن نے کہا کہ ’یہ شناختی کارڈ کم اور ایک ’بیانیاتی آلہ‘ زیادہ لگ رہے تھے۔ جیسے کسی نے پہلے ہی طے کر رکھا ہو کہ یہ افراد کون ہیں اور انہیں کس طرح پیش کرنا ہے۔’ شناختی کارڈوں کے ’بروقت دستیاب ہونے کا‘ ایک راست مطلب یہ نکالا جا سکتا ہے کہ تمام گرفتار ہونے والے ’مسلمان‘ ہیں۔
گودی میڈیا کا بیانیہ:
ان گرفتاریوں کے ساتھ ہی ٹی وی چینلوں میں ایک شور مچ گیا۔ اینکروں کی چیختی چنگھاڑتی بلند آوازوں میں ایک ہی بات گونجتی رہی کہ ’اسلامک ٹیرر نیٹ ورک بے نقاب‘، ’جیش یا لشکر کے سلیپر سیلز فعال‘، اور ’دہلی سے آسام تک جہادی ماڈیول‘ سرگرم وغیرہ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے نہ تو کسی نیٹ ورک کا نام لیا، نہ کسی تنظیم کا، نہ کسی ثبوت کی تصدیق کی۔ لیکن درباری میڈیا پہلے ہی اس نتیجہ پر پہنچ چکا تھا۔ جیسے کوئی اسکرپٹ پہلے سے لکھی ہوئی ہو۔
دھماکہ، شناختی کارڈ، مسلمان اور دہشت گردی کا بیانیہ۔
ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’حکومت کی طرف سے شدید دباؤ ہے کہ ہر واقعہ کو مذہبی عینک سے دیکھا جائے، خاص طور پر اگر یہ آگے چل کر کسی سیاسی فائدے کا ذریعہ بن سکے‘‘۔ ان گرفتاریوں کا سب سے گہرا زخم ان گھروں میں لگا جہاں پولیس نے اچانک دستک دی۔ آسام، گولپارا—ایک بوڑھے پرنسپل کی گرفتاری۔ 68 سالہ عبدالرشید صاحب ریٹائرڈ پرنسپل ہیں۔ پیر کو گھر میں بیٹھے قرآن پڑھ رہے تھے جب کہ پولیس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ انہیں ’’پوچھ گچھ‘‘ کے لیے چلنا ہو گا۔
دو دن بعد، ٹی وی پر ان کا شناختی کارڈ اور تصویر چل رہی تھی۔ ان کا تعارف تھا ’ممکنہ دہشت گرد‘۔ ان کی بیٹی نے روتے ہوئے کہا ’وہ ابّا جنہوں نے کبھی محلے کی سیاست تک نہیں کی، وہ دہشت گرد کیسے ہو گئے؟‘
دہلی کے ایک طالب علم کی گمشدگی:
انجینئرنگ کا ایک 22 سالہ طالب علم کوچنگ کلاس گیا تھا۔ شام کو گھر نہ لوٹا۔ اگلے دن پولیس کی پریس کانفرنس میں اس کی تصویر بطور ’سازش میں شامل فرد‘ دکھائی۔ اس کی ماں نے بس ایک بات کہی کہ ’’اگر وہ واقعی کچھ غلط کررہا ہوتا تو میں خود پولیس کے حوالے کر دیتی۔ لیکن میرا بیٹا…؟ یہ سب جھوٹ ہے۔‘‘ اسی طرح لکھنؤ میں ایک مدرس کے 19 سالہ بیٹے کو رات 2 بجے گھر سے اٹھا لیا گیا۔ پڑوسی کہتے ہیں کہ ’وہ لڑکا کرکٹ کھیلنے کے علاوہ کسی کام میں شامل نہیں ہوتا تھا۔‘
اب تک دھماکے کے واقعہ کے کئی دن گزر گئے۔ نہ ایف آئی آر کی تفصیلات سامنے آئیں۔ نہ فارنسک رپورٹ۔ نہ کال ڈیٹا ریکارڈ۔ نہ سی سی ٹی وی فوٹیج۔ بس ایک خاموشی ہے۔ ایک وکیل نے کہا کہ ’اگر واقعی دہشت گردی کی اتنی بڑی سازش پکڑی گئی ہے تو ثبوت کہاں ہیں؟ اگر ثبوت نہیں ہیں تو گرفتاری کیوں؟‘ پولیس کی خاموشی نے شکوک مزید گہرے کر دیے۔ کیا واقعی یہ سب ایک منظم نیٹ ورک تھا؟ یا سب کچھ دھماکے کے دھوئیں کے ساتھ بنایا گیا ایک بیانیہ تھا؟ ہر جگہ ایک ہی طرز کا الزام، ایک ہی انداز کی کارروائی، ایک ہی طرح کی پروفائلنگ۔ کئی سیاسی مبصرین نے کہا کہ ’یہ محض پولیس کارروائی نہیں، ایک سیاسی خاکے کی تکمیل محسوس ہوتی ہے۔ جیسے کسی نے پوری ریاستی مشینری کو ایک سمت میں دھکیل دیا ہو۔‘
ہندوتوا کے سائے میں بنتا ہوا بیانیہ:
جب گرفتار شدگان کی مذہبی شناخت پر زور دیا جانے لگا تو بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کئی سیاسی رہنماؤں کے بیانات آئے کہ ’ملک دشمن طاقتیں پھر سرگرم ہو گئی ہیں‘، اور ’یہ لوگ ہماری تہذیب اور دھرم کے خلاف سازش کر رہے ہیں‘۔ گو ان بیانات میں براہ راست مسلمانوں کا نام نہیں لیا گیا، مگر سب سمجھ رہے تھے کہ اشارے کن کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ سیاسی ماحول ایک پرانی حکمت عملی کی یاد دلاتا ہے کہ خوف پیدا کرو، دشمن بتاؤ، اور اس دشمن کی شناخت مذہب سے جوڑو۔ جب کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں رونما بیشتر بم دھماکوں میں مبینہ طور پر آر ایس ایس کے لوگوں کا ہاتھ تھا۔ بامبے ہائی کورٹ کے سابق جج کولسے پاٹل اعلانیہ طور پر متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ سارے دھماکوں کے پشت پر آر ایس ایس کا ہاتھ ہے۔ اسی طرح آر ایس ایس کے ایک سابق کارکن یشونت شندھے نے نانڈیڑ کی ضلعی عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کر کے کہا تھا کہ ان دھماکوں میں آر ایس ایس کا ہاتھ ہے جن کی دوبارہ تفتیش کی جائے۔
قومی سلامتی یا ھندتوا کا ایجنڈا:
قانونی ماہرین نے خبردار کیا کہ ’اگر ریاست ثبوت کے بغیر مذہب کی بنیاد پر کارروائی کرے، تو جمہوریت کا ستون ہل جاتا ہے۔‘ مشتبہ افراد کی شناخت ان کے شناختی کارڈز کی بنیاد پر اس انداز میں کی گئی جس سے ان کی مذہبی شناخت نمایاں ہو، تاکہ ’’اینٹی مسلم‘‘ بیانیے کو مزید تقویت ملے۔ یہ گرفتاریاں ایک وسیع سیاسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں جنہیں ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا — اور اس عمل نے دہلی سے لے کر آسام تک بے گناہ مسلمانوں کی تذلیل اور مجرم کے طور پر پیش کرنے کو بڑھاوا دیا۔
ایک سابق جج نے متنبہ کیا کہ ’آج اگر ایک کمیونٹی کو بغیر ثبوت نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل یہی ہتھیار کسی اور کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ یہ بیانیہ ریاست کو مضبوط نہیں، بلکہ کمزور کرتا ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں رہے گا؛ یہ ہر شہری کا مسئلہ بن سکتا ہے۔‘


