بہار اسمبلی انتخابات: حیران کن نتائج۔ لاینحل سوالات

نور اللہ جاوید
دسمبر 2025

نتیش کمار دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کا حلف لے کر ایک بار پھر بہار کی کمان سنبھا ل چکے ہیں۔ نتیش کمار کی واپسی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب کہ ان کی ذہنی و دماغی صحت پر سوالات کھڑے کیے جارہے تھے۔ یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ اگر این ڈی اے کی واپسی بھی ہو گی تو نتیش کمار مہاراشٹر کے شنڈے کی طرح ڈراپ کر دیے جائیں گے۔ مگر نتیش کمار نہ شنڈے ہیں اور نہ ہی بہار مہاراشٹر ہے۔  بہار کی سیاست کا اپنا ایک الگ رخ ہے۔ آزادی کے 8 دہائی بعد بھی بہار کی سیاست برادری، ذات اور علاقائیت کے ارد گرد گھومتی ہے۔

 

تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 14 نومبر کو بہار اسمبلی انتخابات کے جو نتائج آئے ہیں اور این ڈی اے اتحاد نے جس طریقے سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ناقابل یقین بھی ہے۔ دھاندلی، الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور ایس آئی آر پر اٹھتے سوالات کو اگر خارج کر دیا جائے تو یہ نتائج بھارتی جمہوریت کے جمود کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ نتائج آنے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ کے چہرے کے طور پر پیش کرنا انتہائی غلط فیصلہ تھا۔ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے جنگل راج اور نتیش کمار کے بہتر حکمرانی کا تقابل کر کے این ڈی اے کے حق میں فضا سازگار کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ بہار میں آر جے ڈی کی حکومت کو 20 سال ہو چکے ہیں۔ اگر ’جنگل راج‘ ووٹروں کے لیے واقعی اہم ایشو تھا، تو یہ 2020 میں زیادہ اثر انداز ہونا چاہیے تھا، نہ کہ اب 5 سال مزید گزر جانے کے بعد؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا بہار نے 2020 کے مقابلے زیادہ ترقی کی ہے۔ سڑکیں اور بجلی کی صورت حال بہتر تو ضرور ہوئی ہے مگر کرپشن کی وجہ سے انفراسٹرکچر کا حال انتہائی ناقص ہے۔ نئے پل گر رہے ہیں، سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ چھوٹے شہر ٹریفک جام سے جوجھ رہے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا معمولی بہتری کی وجہ سے این ڈی اے کے حق میں فضا ہموار ہوئی ہے؟۔

 

غربت، بے روزگاری اور نقل مکانی کی صورت حال جوں کی توں ہے۔ بہار اب بھی ملک کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ہے۔ بے روزگاری میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ زرعی زمینیں چھوٹی ہیں اور خاندانوں کا پیٹ نہیں بھر سکتی ہیں، اس لیے لوگ بڑے پیمانے پر باہر کام کرنے کے لیے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ کووِیڈ سے پہلے کیے گئے ایک جائزے کے مطابق 65 فیصد گھرانے ترسیلات پر منحصر تھے۔ یہ حالت سماجی رشتوں پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ مرد زیادہ تر باہر رہتے ہیں، صرف تہواروں پر لوٹتے ہیں۔ تعلیم اور صحت کی صورت حال بھی خراب ہے، نوجوان کوچنگ کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ 2020 اور 2025 کے درمیان عام آدمی کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

 

‎اس کے باوجود 2025 میں این ڈی اے کا ووٹ شیئر 37.3 فیصد سے بڑھ کر 46.6 فیصد ہو جاتا ہے۔ جب کہ مخالف اتحاد کا ووٹ تقریباً وہیں برقرار رہتا ہے— 37.2 فیصد سے 37.9 فیصد۔ ووٹنگ میں بھی بڑی چھلانگ لگی۔ اس بار یہ 57 فیصد (2020) سے بڑھ کر 67 فیصد ہو گیا ہے۔ این ڈی اے اتحاد کی جیت کی شرح 83 فیصد تک پہنچ گئی جب کہ بی جے پی کی انفرادی جیت کی شرح 88 فیصد کے قریب ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حیران کن ہے۔ آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا خواتین کے اکاؤنٹ میں محض 10,000 روپے کی منتقلی اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے وعدے کی بنیاد پر بہار کے نوجوانوں نے اتنی بڑی تعداد میں این ڈی اے کے حق میں  ووٹنگ کر دی ہے۔

ممکن ہے 125 یونٹ تک مفت بجلی، سماجی سیکورٹی پنشن میں تین گنا اضافہ، 75 لاکھ عورتوں کو 10,000 روپے اور 1 کروڑ نوکریوں کا وعدہ نے کام کیا ہو گا۔ بہار کے عوام یہ جانتی ہے کہ خواتین پر جو نوازش کی جا رہی ہے اس کی ادائیگی بہار کی ترقی کے لیے عالمی بینک سے حاصل کی گئی قرض کی رقم سے کی جا رہی ہے۔ اس سے ریاست کے خزانے پر بوجھ میں اضافہ ہو گا اور مہاراشٹر، پنجاب اور ہماچل پردیش اس کی قیمت چکا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے بہار کی ترقی اور دیگر ضروری کام کاج ٹھپ ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی تنظیمی طاقت، بے مثال محنت، بے پناہ سرمایہ، بیوروکریسی پر گرفت نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ممکن ہے کہ سنہرے وعدے، خواتین کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی اور بی جے پی کی تنظیمی صلاحیت کا کردار رہا ہو گا مگر یہ اتنی بڑی جیت کی وجہ نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لیے بہار انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی شکست اور فتح کو کسی ایک جہت سے تجزیہ کر کے اصل حقیقت تک نہیں پہنچا جا سکتا ۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ نتیش کمار کی حکومت پر کمزور گرفت، بدعنوانی میں اضافہ، لا اینڈ آرڈر کی بدترین صورت حال کا ادارک ہر بہاری شہری کو ہے۔

 

دراصل بہار انتخابات میں ذات برادری اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ این ڈی اے اتحاد کے پاس ایک طرف جب کہ بی جے پی کی وجہ سے ہندوؤں کی اعلیٰ ذاتوں کی حمایت حاصل تھی، نتیش کمار کی موجودگی بہار کی انتہائی پسماندہ غیر یادو برادری کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ جیتن رام مانجھی، چراغ پاسوان اور اوپندر کشواہا کی این ڈی اے اتحاد میں شمولیت سے ووٹ بینک کا دائرہ کافی وسیع ہو گیا۔ اس کے مقابلے انڈیا اتحاد کا انحصار صرف مسلم اور یادو ووٹ پر تھا۔ کانگریس بہار کی ہندوؤں کی اعلیٰ ذاتوں میں جگہ بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ ملاح طبقہ سے تعلق رکھنے والے ساہنی کو نائب وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنا دیا گیا تھا مگر ساہنی برادری بھی آر جے ڈی اور کانگریس اتحاد کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر نہیں آئے۔ 90 کی دہائی میں مسلم اور یادو کے درمیان بے مثال اتحاد تھا اور اس کا فائدہ آر جے ڈی کو ملتا تھا مگر یادوؤں کی موقع پرستی نے مسلمانوں کو دل برداشتہ کر دیا ہے۔

 

بہار میں مسلمانوں کی آبادی 18 فیصد کے قریب ہے۔ سیمانچل کے 4 اضلاع پورنیہ، کشن گنج، ارریہ اور کٹیہار میں مسلمانوں کی اوسطاً آبادی 45 فیصد کے قریب ہے۔ جب کہ کشن گنج میں مسلمانوں کی آبادی 67 فیصد کے قریب ہے۔ متھلانچل کے اضلاع دربھنگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، سپول اور سہرسہ میں مسلمانوں کی آبادی 17 فیصد یا اس سے زائد ہے۔ مگدھ کے اضلاع میں مسلمانوں کی آبادی 10 سے 11 فیصد کے درمیان، مونگیر، بھاگلپور، بانکا اور آس پاس کے اضلاع میں بھی مگدھ کی طرح مسلم آبادی ہے۔  تاہم گزشتہ برسوں میں ملک کی سیکولر جماعتوں نے مسلم امیدواروں کو صرف ان حلقوں سے ٹکٹ دینے کو ترجیح دی ہے جہاں مسلم آبادی 30 فیصد سے زائد ہے۔ بہار میں ایسی سیٹیں ایک درجن سے بھی کم ہیں۔ 90 کی دہائی تک بہار کے ان حلقوں سے بھی مسلم امیدوار کامیاب ہوتے تھے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد 15 فیصد یا اس سے کم تھی۔ حالیہ برسوں میں ملک کی سیکولر سیاسی جماعتوں میں مسلم امیدواروں کی طرف اپنے ووٹ بینک کو منتقل کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ یادوؤں نے موقع پرستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ 90 تک کانگریس کے دور میں مسلم، ہندوؤں کی اعلیٰ ذاتیں اور کچھ دلت برادری کے درمیان ایک طرح سے سماجی بندھن تھا۔ یہ بندھن مضبوط تھا۔ مگر منڈل کی سیاست اور بہار میں سوشلسٹ تحریک کے ابھرنے کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کے اعلیٰ ذات کے درمیان غیر اعلانیہ سماجی معاہدہ ختم ہو گیا اور اب بہار کی ہندوؤں کی اعلیٰ برادری مکمل طور پر بی جے پی کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔

اس مرتبہ بہار کے مسلمانوں نے غیر ضروری طور پر ”نمائندگی“ کے سوال کو کافی بڑا بنا دیا تھا۔ مگدھ سے لے کر سیمانچل تک مسلمانوں کی زبان پر نمائندگی کا سوال ہی حاوی تھا۔ مکیش ساہنی کو مہا گٹھ بندھن کی طرف سے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر پروجیکٹ کیے جانے کے بعد این ڈی اے اور ایم آئی ایم نے اس ایشو کو مہا گٹھ بندھن کے خلاف استعمال کر لیا کہ بہار کی 2 فیصد آبادی پر مہربانیاں اور 18 فیصد مسلمانوں کو آبادی کے اعتبار سے ٹکٹ بھی نہیں۔ بہت حد تک یہ سوال کافی اہم بھی رہا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بہار کے مسلمانوں کا واحد مسئلہ نمائندگی کا ہے؟ ظاہر ہے کہ 2023 میں کیے گئے ذات سروے کے اعداد و شمار میں مسلمانوں کو انتہائی پسماندہ برادری کے طور پر شمار کیا ہے۔ بہار میں آج بھی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مسلم طلبا کی نمائندگی کی شرح آبادی کے اعتبار سے انتہائی کم ہے۔ 4 فیصد سے بھی کم مسلم طلبا اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ سیمانچل جہاں سے ایم آئی ایم نے پورا انتخاب مسلم نمائندگی کے سوال پر مقابلہ کیا اور 5 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ مگر کئی ایسی سیٹیں جہاں مسلمانوں کی آبادی 60 فیصد سے زائد ہے، وہ سیٹیں این ڈی اے کے امیدوار جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ کیوں کہ مسلم امیدواروں کے درمیان بڑے پیمانے پر ووٹوں کی تقسیم ہوئی۔ سیمانچل کا بڑا مسئلہ تعلیمی پسماندگی ہے مگر انتخاب میں اس کو موضوع نہیں بنایا گیا۔

بہار انتخابات کے نتائج کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو کم سے کم 3 درجن ایسی سیٹیں ہیں جہاں مسلم ووٹوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئی اور اس کا فائدہ این ڈی اے اتحاد کو ملا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلم ووٹروں نے صرف ایم آئی ایم کو ووٹ دیا بلکہ جن سوراج اور بہوجن سماج وادی پارٹی کے مسلم امیدواروں نے بھی ان حلقوں میں ووٹ حاصل کیے جہاں مسلم آبادی 15 فیصد سے کم ہے۔ پورے بہار کے انتخاب میں مسلم ووٹروں میں حکمت عملی کا فقدان نظر آیا۔ اسی کا خمیازہ ہے کہ اس مرتبہ محض 11 مسلم ممبر اسمبلی ہی کامیاب ہو سکے ہیں اور ان سیٹوں پر بھی مسلم امیدوار شکست سے دو چار ہو گئے جہاں جیت آسانی سے مل جاتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیادت کے نام پر جن سوراج، بہوجن سماج پارٹی، چندر شیکھر ازاد کی پارٹی اور تیج پرتاب یادو کی پارٹی کے مسلم امیدواروں کو ووٹ دینا غیر سیاسی حکمت عملی نہیں تھی؟ اس طرح دیکھا جائے کہ مسلم تنظیمیں (سول سوسائٹی) کی یہ ناکامی تھی۔ وہ مسلم نوجوانوں کی رہنمائی نہیں کر سکے جو “اپنا ووٹ اور اپنی قیادت” کے نعرہ مستانہ میں جھوم رہے تھے۔ انہیں یہ نہیں بتایا کہ تکثیری معاشرے میں سماجی معاہدے اور تال میل کے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ اور بقائے باہمی کا ماحول قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ بہار کی بدلتی ہوئی سیاست نے مسلم ووٹروں کے سامنے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا بہار میں مسلم سیاسی لیڈر شپ صرف سیمانچل تک محدود رہ جائے گی؟ کیا بہار جیسی ریاست میں جہاں مسلمانوں کی آبادی محض 18 فیصد ہے، وہاں مسلم لیڈر شپ کے سوال کو اہم بنا دینے کا فائدہ “ہندوتو” کی سیاست کرنے والے نہیں اٹھائیں گے؟ اور آخری سوال یہ ہے کہ چند سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنا زیادہ اہم ہے یا ہم خیال اور سیکولر سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اقتدار تک پہنچ کر حالات اور فضا کو سازگار بنانا ضروری ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں اگر اس کے جواب تلاش کر لیے گئے تو مستقبل میں بہار کے مسلم ووٹرس اپنے لیے راہ طے کر سکتے ہیں۔ ورنہ بہار کی 18 فیصد مسلم آبادی کے ووٹرس کی اہمیت صرف سیمانچل تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ایک دہائی سے قبل تک بہار کے بیشتر اضلاع میں مسلم سیاسی لیڈر شپ تھی مگر اب مکمل طور پر صرف ایک علاقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

 

بہار انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ہیں اس میں ایک بڑا رول خواتین ووٹرس کا ہے۔ اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل 26 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے “مکھیہ منتری مہیلا روزگار یوجنا” شروع کی۔ اس اسکیم کے تحت 75 لاکھ خواتین کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے 10,000 روپے براہِ راست ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے، اور کاروبار کامیاب ہونے پر یہ رقم 2 لاکھ روپے تک بڑھانے کا وعدہ کیا گیا۔ اس کے چند ہفتے بعد 3 اکتوبر کو مزید 25 لاکھ خواتین کو 10,000 روپے کی دوسری قسط، پھر 7، 17 اور 24 اکتوبر کو دیگر قسطیں منتقل کی گئیں۔ اس طرح انتخابات سے عین قبل ریاستی خزانے سے کل 12,500 کروڑ روپے 1.25 کروڑ خواتین کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ یہ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ بہار انتخابات کا شیڈول 6 اکتوبر کو اعلان ہوا، یعنی اسی دن سے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (MCC) نافذ ہو گیا۔ ایم سی سی کے اصولوں کے مطابق اقتدار میں موجود جماعت انتخابات کے دوران کوئی مالی گرانٹ، ویلفیئر اسکیم یا اختیاری فنڈز سے ادائیگیوں کا اعلان نہیں کر سکتی، کیوں کہ یہ ووٹروں کو متاثر کرنے کی واضح کوشش ہوتی ہے۔ مگر این ڈی اے حکومت نے بالکل پرواہ نہیں کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 اکتوبر (پہلے مرحلے سے 6 دن پہلے)، 7 نومبر (دوسرے مرحلے سے 4 دن پہلے) اور یہاں تک کہ 14 نومبر کو بھی قسطیں منتقل کی گئیں۔ انتخابات 6 اور 11 نومبر کو ہوئے۔ یعنی نیتی آیوگ کے ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس میں سرفہرست بہار میں خواتین کو 10,000 روپے کی نقد رقم انتخابات سے ٹھیک پہلے اور انتخابی مہم کے دوران دی گئی۔ آر جے ڈی ایم پی منوجھا نے 1 نومبر کو الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر شکایت کی کہ بہار حکومت نے 17، 24، 31 اکتوبر اور 7 نومبر کو رقم منتقل کر کے ایم سی سی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن کا کردار جانبدارانہ اور افسوس ناک حد تک مایوس کن رہا ہے۔ ایس آئی آر نے کافی اہم رول انجام دیا ہے۔ انگریزی ویب سائٹ دی کوئنٹ کی ایک رپورٹ میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج سے  بی جے پی اور این ڈی اے اتحاد کو کم سے کم 95 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ ان 95 سیٹوں پر اتنی ہی مارجن سے کامیابی ملی ہے جتنے یہاں ووٹ کاٹے گئے تھے ۔

 

تاہم اس سوال کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں ہے کہ ایک ایسا خطہ جس کا ملک کے سب سے پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ جہاں پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے ملازمت کی کوئی امید نہیں ہے، بوڑھوں کے لیے صحت کا قابلِ اعتماد نظام نہیں، سماجی و معاشی عدم مساوات بے لگام ہو چکی ہے، اور پولیس–بیوروکریسی عام لوگوں کے لیے صرف بخشی اور کرپشن کا دوسرا نام ہے۔ اس کے باوجود ایک ایسی سیاسی جماعت جو گزشتہ دو دہائیوں سے اقتدار میں ہے، وہ بڑے مینڈیٹ کے ساتھ واپس آتی ہے تو بھارت کی جمہوریت کا جمود اور سیاسی موبوکریسی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ دو دہائی سے اقتدار میں رہنے والی جماعت صرف اس بنیاد پر انتخاب لڑتی ہے کہ “متبادل ہم سے بدتر ہے” اور الیکشن سے ذرا پہلے کچھ نقد امداد تقسیم کر دیتا ہے— اور پھر بہار کی ہر 4 میں سے 3 نشستیں جیت کر واپس اقتدار میں آ جاتی ہے۔ جن سوراج کے مکھیا پرشانت کشور ایک ماہر سیاسی حکمت عملی کار ہیں۔ انہوں نے کئی سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں کامیابی دلائی ہے۔ انہوں نے گزشتہ دو سالوں سے بہار میں محنت کی، پدیاترا کی، تعلیم، روزگار، صحت جیسے بنیادی مسائل کو اٹھایا، اس کے باوجود ایک بھی سیٹ نہیں لے سکے۔ تو پھر یہ سوال لازمی ہے کہ ایسی جمہوریت کو کیا نام دیا جائے ؟

مگر آخری سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت حال کے لیے شکست سے دو چار ہونے والی پارٹیاں عوام کو مورد الزام ٹھہرا کر مطمئن ہو سکتی ہیں۔ دراصل یہ عوام سے زیادہ اپوزیشن جماعتوں کی ناکامی ہے۔ بہار کی حزب اختلاف بالخصوص راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس ایک ترقی پسند اتحاد کو متحرک کرنے میں ناکام رہی ہیں کیوں کہ ان کے پاس ترقی پسند حلقوں کو متحرک کرنے کے لیے ڈیزائن کردہ کوئی تنظیمی نظریہ نہیں تھا۔ تنظیمی نظریہ سے ہمارا مطلب معاشرے کو تبدیل کرنے کے مقصد سے خیالات کا ایک ہم آہنگ مجموعہ۔ مسلسل سیاسی جدوجہد کے ذریعے اس نظریہ کو نافذ کرنے کا آلہ ہے۔ یہاں نظریہ کے طور پر صرف بیان بازی اور اہم اعلانات پر ہی انحصار تھا۔ المیہ یہ ہے کہ سیکولر نظریات کی دعویدار پارٹیاں 5 سال تک عوام میں اپنے نظریات کی حفاظت کے لیے کوئی بھی کام نہیں کرتی ہیں۔ دوسری طرف کی پارٹیاں سال بھر کام کرتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ جیت پھرکس کی ہو گی؟۔

qr code

Please scan this UPI QR Code. After making the payment, kindly share the screenshot with this number (+91 98118 28444) so we can send you the receipt. Thank you for your donation.