اتر پردیش میں قانون کی  حکمرانی یا جنگل راج ؟

عبدالباری مسعود
فروری 2026

’’لو جہاد، مذہب کی تبدیلی اور گائے کی اسمگلنگ جیسی قوم مخالف سرگرمیوں کے تئیں ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا۔ اگر کہیں کوئی شخص غلطی سے بھی اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہو تو اس کی اطلاع بروقت پولیس اور انتظامیہ کو فراہم کریں۔ علاج کا انتظام ہم خود کر لیں گے۔۔۔‘‘

’’یاد رکھنا ،جب بھی تم گستاخی کرو گے، تمہیں اسی طرح پیٹا جائے گا جیسے بریلی کے اندر پیٹا گیا تھا…‘‘

’’چھوٹے چھوٹے بچے، جن کے ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے، جن کے ہاتھوں میں نوٹ بک ہونی چاہیے، جن کے پاس سائنس اور ریاضی کی کتابیں ہونی چاہئیں، ان کے ہاتھوں میں   I Love Muhammad   کے پوسٹر ہیں… انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی اپنی زندگیاں تو برباد ہو ہی چکی ہیں، بلکہ یہ لوگ ان بچوں کی زندگیاں بھی برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں…‘‘

ـ’’اگر بیٹی کی عصمت  پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی، کسی تاجر  کی دکان کو آگ لگانے کی کوشش کی، یا کسی تہوار میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی تو یہ راستہ سیدھا جہنم کی طرف جانے والا ہوگا…   ‘‘

’ گجوا(غزوہ) ہند‘ ہندوستان کی دھرتی  پر نہیں ہوگا۔ اگر کسی کو جہنم میں جانا ہو تو ’گجواہند‘ کے نام پر بدامنی پھیلانے کی مذموم کوشش کرے۔ دیر سویر ’چھانگو‘ جیسے حالات ان کے بھی ضرور ہوں گے…‘‘

یہ  نمونہ کے چند بیانات ہیں۔ ان بیانات کو پڑھ کر کسی کا بھی   ذہن  فورا کسی غنڈے  یا موالی کی طرف جائے گا۔ ٹھہریئے !  یہ کسی غنڈے یا ڈان کی دھمکیاں نہیں ہیں بلکہ  ملک کی (آبادی کے

اعتبارسے) سب سے بڑی ریاست  کے سربراہ حکومت کی ہیں اور ان کے  یہ بیانات  کے ویڈیو کلپ کے ساتھ سوشل میڈیا  ’ ایکس‘ ( سابق ٹوئٹر) پر بھی موجود ہیں۔ ان بیانات سے پہلی نظر میں اندازہ ہو جائے گا کہ اس ریاست کا سربراہ  وہاں کی دوسری بڑی مذہبی آبادی کے تئیں کس قدر بغض و عناد رکھتا ہے  جس کا مظاہرہ آئے دن ہورہا ہے۔

اس وقت  اترپر دیش میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا جو سلسلہ میں 2017 میں  یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد شروع ہوا ہے اس میں کچھ زیادہ ہی شدت آگئی ہے۔  بی جے پی حکومت کے مبینہ ظالمانہ اور غیر قانونی اقدامات کی زد میں مسلمان، ان کے  مدارس، مساجد اور  مذہبی اہمیت کے حامل مقامات سب شامل ہیں۔ کوئی نہ کوئی عذر  اور بہانہ بناکر ان کو نشانہ  بنایا جارہا ہے۔ ریاست  میں مسلم مذہبی اداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر انہدام اور بندش کی کارروائیوں نے  مسلم آبادیوں  میں  خوف اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔’غیر قانونی تعمیرات ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی کی قیادت والی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے 350 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور درگاہوں کے خلاف کارروائی کی ہے  جن میں سے بیشتر نیپال سرحد کے قریب مسلم اکثریتی اضلاع میں واقع ہیں۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلی یوگی کے براہِ راست احکامات  کی بنیاد  پر نیپال سے ملحق اضلاع میں مبینہ طور پر ’’غیر قانونی ‘‘ مذہبی عمارتوں کے خلاف  بلڈوزر چلایا گیا۔ جس  کے نتیجے میں 225 مدارس، 30 مساجد، 25 مقبرے اور 6 عیدگاہیں منہدم کی جا چکی ہیں۔ یہ کارروائی نیپال سرحد کے ساتھ واقع سات اضلاع میں مہاراج گنج، شراوستی، بہرائچ، سدھارتھ نگر، بلرام پور، لکھیم پور کھیری اور پیلی بھیت میں انجام دی گئی۔  حکام کے مطابق  صرف شراوستی میں 104 مدارس، ایک مسجد، پانچ مقبرے اور دو عیدگاہیں زمیں دوز کی گئیں۔ اسی طرح صرف مہاراج گنج ضلع  میں 29 مدارس اور پانچ مزارات بلڈوز کر دیے گئے، جب کہ  کم از کم 26 دیگر کو سیل کر دیا گیا یا نوٹس جاری کیے گئے۔ مقامی باشندے اسے ایک منظم طرزِ عمل کا حصہ سمجھتے ہیں جو انتقام اور تعصب  سے لبریز ہے۔

تاہم یوگی حکومت نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ حساس سرحدی علاقوں سے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے پُرعزم ہے۔ حکام نے یہ  بودہ  عذر پیش کیا کہ  زمینوں سے متعلق  قوانین کی خلاف ورزیوں اور ممکنہ  سلامتی  خطرات  کے پیش نظر  انہدامی  کاروائی انجام دی گئی۔ ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ نیپال سرحد سے 10 تا 15 کلومیٹر کے دائرے میں کسی بھی غیر قانونی تعمیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہماری زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت انتظامیہ ان علاقوں میں سخت جانچ جاری رکھے گی۔

بہرحال اس یک طرفہ نوعیت کی  کارروائی کے خلاف سوال اٹھنا فطری ہیں کیوں کہ اس میں  صرف ایک مخصوص فرقہ کی املاک کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ مختلف حلقوں  نے اس پر  شدید تنقید کی ہے۔

مہاراج گنج  کے محمد عارف  نے جن کے دو بیٹے مدرسہ عربیہ مصباح العلوم میں زیر تعلیم تھے، جسے حال ہی میں سیل کیا گیا، کہا کہ  ’یہ اب قانونی مسئلہ نہیں رہا  یہ شناخت کا مسئلہ ہے۔ پیغام بالکل واضح اور  صاف ہے۔ اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کے ادارے بند کر دیے جائیں گے اور آپ کے بچوں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا جائے گا۔‘

نو تنوا تحصیل کے گاؤں  پرس ملک  (Parsmalik)  میں واقع مدرسہ کو مقامی حکام نے بند کر دیا۔ ایس ڈی ایم نوین کمار پولیس کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور سرکاری منظوری نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے احاطے کو سیل کر دیا  جب کہ  دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ زمین برسوں پہلے قانونی طور پر الاٹ کی گئی تھی۔ ایک مقامی باشندے شفیق ملک نے کہا کہ ‘یہ ناانصافی ہے۔ یہ مدرسہ ہمارے بچوں کی خدمت کر رہا تھا۔ اب اسے ایسے سیل کیا جا رہا ہے جیسے کوئی مجرمانہ اڈہ ہو۔ کیا یہ جمہوریت ہے یا مسلمانوں کے خلاف انتقام؟‘

پیلی بھیت، لکھیم پور کھیری، بہرائچ، شراوستی، بلرام پور اور سدھارتھ نگر جیسے اضلاع میں مسلم باشندوں کا کہنا ہے کہ ان کے  تعلیمی  اداروں  کو منظم طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے  جب کہ  دیگر مذہبی  گروہوں کی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سماجی کارکن نعیم انصاری نے یہ سوال کیا کہ بلڈوزر کبھی غیر مجاز مندروں یا آشرموں کے قریب  کیوں نہیں جاتے ؟ یہ قانون کی بالادستی کا معاملہ نہیں بلکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ ہے۔

اگرچہ  ریاست کا  اقلیتی بہبود محکمہ کا دعویٰ ہے کہ وہ غیر تسلیم شدہ مدارس کی نشاندہی کر رہا ہے لیکن ان میں سے کئی ادارے دہائیوں سے قائم ہیں جو مسلمانوں کی ملکیت والی زمین پر تعمیر ہوئے ہیں  اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کی تعلیمی  خدمت  انجام  دے  رہے ہیں۔

 

بلرام پور کے مذہبی رہنما مولانا فہیم اختر نے  واضح الفاظ  میں کہا کہ  یہ ریاستی سرپرستی میں اسلاموفوبیا ہے۔ وہ ہمارے مذہب، ہماری ثقافت اور عوامی زندگی میں ہماری موجودگی کو مٹانا چاہتے ہیں۔ کئی معاملات میں مبینہ طور پر بغیر مناسب نوٹس یا قانونی عمل کے انہدام کیے گئے۔ بہرائچ کے ماہرِ تعلیم ڈاکٹر اعظم قریشی نے سوال اٹھایاکہ  کیا حکومت کسی انگلش میڈیم نجی اسکول کو اس طرح سیل کرے گی؟ کبھی نہیں۔ یہ  چن کر  سزا  دینے کے مترادف ہے۔ ان مدارس کو اچانک بند کرنے کے نتیجے میں طلبہ پر اس کا اثر خاص طور پر شدید رہا ہے۔ 16 سالہ مدرسہ طالب علم فیضان نے کہاکہ ہم صرف پڑھنے آتے تھے۔ اب ہمارا اسکول ختم ہو گیا ہے۔ وہ ہمیں مجرموں کی طرح سمجھتے ہیں۔ ہمارا مستقبل کیا ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق یوگی  حکومت کے یہ اقدامات آئینی حقوق کی خلاف ورزی  ہے ۔ ایڈووکیٹ اسلم صدیقی نے  جو قانونی چیلنج کی تیاری کر رہے ہیں کہا کہ اگر قوانین نافذ کرنے ہیں تو پھر سب پر یکساں طور پر ہونے چاہئیں۔ صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا غیر قانونی اور امتیازی سلوک ہے ۔

بہرائچ میں  مہاراجہ سہیل دیو میڈیکل کالج کے احاطے میں واقع  دس مزاروں کو  غیر قانونی تجاویزات  کہہ کر  مہندم کردیا  گیا ۔ بہرائچ کے  کٹنیا گھاٹ کے جنگلات میں واقع  سات سو قدیم لکڑ شاہ بابا مزار کو  بھی مہندم کردیا گیا۔  اسی طرح لکھنو کے میڈیکل کالج میں اسی طرح کی انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔ دیوریا  میں  عبدالغنی شاہ بابا کے مزار کو توڑ دیا گیا۔ جس پر غیر مسلم زائرین نے بھی انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔  اس  درگاہ کے خلاف مقامی بی جے پی ایم ایل اے  شلبھ منی ترپاٹھی  نے باربار یہ شکایت کی کہ یہ  مزار ایک سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔جس پر مقامی انتظامیہ فورا حرکت میں آگئی۔ یہ دیکھنے میں آرہاہے کہ  آر ایس ایس یا بی جے پی سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد   مسلمانوں کی املاک  کے  بارے میں شکایت کرتا ہے اور  انتظامیہ فورا حرکت میں آجاتی ہے ۔ ا یسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی گہری سازش کا حصہ ہے ۔ سنبھل کی جامع مسجد، دہلی کی مسجد فیض الہی اور ایسی درجنوں مثالیں ہیں  جنہیں  سنگھی  حامیوں کی شکایت پر  نشانہ بنایا گیا۔  دیوریا درگاہ کمیٹی  کے صدر  محمد رشید خان  نے کہا کہ  انتظامیہ  نے از خود کارروائی شروع کی اور یہ دھمکی دی کہ  ہمارے خلاف بھی  اسی  طرح  فرد جرم عائد کردی جائے گی جس طرح سنبھل  واقعہ میں کی گئی تھی۔ اسی وجہ سے ہم نے بلڈوزر کارروائی کے کاغذات پر دستخط کیے۔

چو طرفہ تنقید کے باوجود ریاستی حکام  اس کارروائی  کے پیچھے کسی فرقہ وارانہ محرک کی تردید کرتے ہیں۔ مہاراج گنج کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ تمام غیر مجاز تعمیرات کے خلاف یکساں کارروائی ہو رہی ہے۔ کسی کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔

لیکن مقامی باشندے اس  بیان کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ کیوں کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ سب ان کے سامنے  ہے۔ریٹائرڈ استاد اسد علی نے کہاکہ یہ سفید  جھوٹ ہے۔ سب کچھ صاف نظر آ رہا ہے۔ ہمارے ادارے حملے کی زد میں ہیں۔ ہمیں سزا دی جا رہی ہے، ذلیل کیا جا رہا ہے اور پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔

اس امر میں کوئی  دو رائے نہیں کہ آج کے اتر پردیش میں بلڈوزر محض ایک مشین نہیں رہا بلکہ یہ ریاستی  جبر کی علامت  بن گیا اور   اس سے  مسلمانوں کو یہ سیاسی پیغام  دیا جارہا ہے کہ  تم دوسرے درجہ کے شہری ہو جیسا کہ آر ایس ایس کے فکری رہنما  گولوالکر نے  اپنی کتاب میں کہا ہے۔  چنانچہ  مسلمانوں کے لیے ہر بند مدرسہ اور ہر منہدم مسجد ایک پیغام ہے کہ آپ کا یہاں کوئی مقام نہیں۔

عارف نے لرزتی آواز میں کہاکہ ہم غیر قانونی نہیں ہیں۔ ہم ہندوستانی شہری ہیں۔ لیکن یہ حکومت ہمیں دشمنوں کی طرح برتاؤ کر رہی ہے۔ دنیا کب تک خاموش تماشائی بنی رہے گی؟

مجموعی طور پر 200 سے زائد ’ غیر تسلیم شدہ ‘  مدارس اور دو درجن سے زیادہ  ’’غیر قانونی طور‘‘ پر تعمیر شدہ مساجد یا مزاروں کو یا تو سیل کر دیا گیا، منہدم کر دیا گیا یا  ریونیو کوڈ کی دفعہ 67 کے تحت نوٹس جاری کیے گئے۔

 

دیوریا سے تعلق رکھنے والے  تاریخ داں اور صحافی  ڈاکٹر اشوک کمار پانڈے نے مزار کے انہدام کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ  ملک بھر میں ہزاروں مندر ہیں جو سرکاری زمینات  پر غیر قانونی طریقے سے تعمیر کیے گئے ہیں لیکن ان کے خلاف  کبھی انہدامی کارروائی نہیں ہوتی۔ بلڈوزر کا چن کر استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنا رہی ہے۔

بہرحال اس  یک طرفہ ،  چن کر  کسی  مخصوص  فرقہ کونشانہ بنانے  اور  انتظامیہ کے  غیر قانونی طرز عمل کو  جائز  ٹھہرانے کے خلاف  شدید ردعمل سامنے آرہا ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ جس نے بلڈوزر کارروائی کے سلسلہ میں کچھ رہنما ہدایات جاری کی تھیں وہ از خود ان غیر قانونی کارروائیوں کا نوٹس کیوں نہیں لیتی۔ بہر حال ان  متعصبانہ  کارروائیوں سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ اتر پردیش میں قانون کی حکمرانی ختم ہوگئی ہے!  یہ اس  اسمبلی الیکشن کی تیاری کا بھی عندیہ دیتی ہے جو اگلے سال  فروری میں  ہونا ہے۔

qr code

Please scan this UPI QR Code. After making the payment, kindly share the screenshot with this number (+91 98118 28444) so we can send you the receipt. Thank you for your donation.